پارلیمانی محتسبِ اعلیٰ کے متعلق قانون نمبر473 مورخہ 12جون 1996 ہے، جس میں قانون نمبر556 مورخہ24جون 2005 اور قانون نمبر502 مورخہ12جون 2009 کے ذریعہ  ترمیم کی گئی ہے۔


باب 1
انتخاب، ریٹائرمینٹ اورسبکدوشی 

§  1۔ پارلیمنٹ کے ہرانتخاب اورمنصب خالی ہونے کی صورت میں پارلیمینٹ ایک محتسبِ اعلیٰ کا چناؤکرتی ہے۔
شق2۔ اگر محتسب اعلیٰ فوتیدگی کی بنا پر سبکدوش ہو جائے تو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانونی امور یہ طے کرتی ہے کہ جب تک پارلیمنٹ نئے محتسبِ اعلیٰ کا انتخاب نہ کر لے اس وقت تک محتسبِ اعلیٰ کے فرائض کون سنبھالےگا۔
 
§  2۔ پارلیمنٹ، کمیون کی کاؤنسل اورریجن کی کاؤنسل ( (regionsrådکے اراکین محتسب اعلیٰ کے فرائض منصبی سر انجام نہیں دے سکتے ہیں۔
شق 2۔ محتسبِ اعلیٰ نے قانون کی ڈگری kandidateksamen) (juridisk پاس کی ہونی چاہیے۔

§  3۔ اگر محتسبِ اعلیٰ کو پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل نہ رہے، تو پارلیمنٹ محتسبِ اعلیٰ کو برخواست کر سکتی ہے۔

§  4۔ محتسبِ اعلیٰ 6 ماہ کی پیشگی اطلاع دےکرایک مہینے کے خاتمہ تک اپنی سبکدوشی طلب کر سکتا ہے۔۔
شق 2۔ جس ماہ محتسبِ اعلیٰ پورے 70سال  کا ہوجائے اسی ماہ کے خاتمہ پروہ ریٹائر ہو جائے گا۔

§  5۔۔ محتسبِ اعلیٰ کی تنخواہ کا تعین پارلیمنٹ کرتی ہے۔ §§ 3-5  کے مندرجات اور قواعد و ضوابط وزرا کی پینشن اور دیگرمراعات وغیرہ کا تعین کرتے ہیں ان سےمطابقت رکھنے والےقواعد کے تحت محتسبِ اعلیٰ کو پینشن اور ریٹائرمنٹ کےدیگر مالی مراعات کا حق حاصل ہے۔
شق 2۔  بجائےوزرا کی پینشن اور دیگر مالی مراعات وغیرہ کا حساب لگانے والے قانون § 5 کے محتسبِ اعلیٰ یہ خواہش کرسکتا ہے کہ اس کی پینشن کا حساب کتاب پارلیمنٹ کے عہدیداران کی پینشن کے قانون , jf. § 1, stk. 2 سے مطابقت رکھنے والے قواعد کی رو سے کیا جائے، اور اس طرح جتنا عرصہ اُس نے محتسبِ اعلیٰ کے فرائض سرانجام دیئے ہیں اُس کو محتسبِ اعلیٰ کی مجموعی پینشن کی عمر میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

§  6۔ اگر محتسبِ اعلیٰ کو بلا پیشگی اطلاع اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے، تو وہ جس مہینے میں اپنا عہدہ چھوڑتا ہے اس کے خاتمہ  سے لے کر 3 ماہ کے لیے تنخواہ کا حقدار ہوتا ہے۔ اگر محتسبِ اعلیٰ اپنے عہدہ کی معیاد ختم ہونے سے پہلے وفات پا جانے کی بنا پر سبکدوش ہو تو اس کی تنخواہ کا وہ حصّہ جو وفات کی وجہ سےادا نہ ہوسکا ہو، اس کی شریک حیات اور اگر محتسبِ اعلیٰ نے اپنے پیچھےشریک حیات نہ چھوڑی ہو تو بچوں میں سے ان کو جو بچوں کی پینشن پانے کےحقدار ہوں ملتا ہے۔
شق 2۔ جب تک تنخواہ کی آمدن کی ادائیگی جاری رہتی ہے اس دوران انتظار کی رقم(ventepenge)   یا پینشن کی ادائیگی نہیں ہو گی۔
شق 3۔ وزرا کی تنخواہوں اور پینشن وغیرہ کے قانون 3 §  شق 2 کے مطابق تنخواہوں کے ضمن میں اسی مناسبت سے شق نمبر 1 استعمال کی جاتی ہے۔

باب 2
محتسبِ اعلیٰ کا دائرہ اختیار

§  7۔۔ محتسبِ اعلیٰ کا کام سرکارکے تمام انتظامی امورکا احاطہ کرتا ہے۔ محتسبِ اعلیٰ کا کام پرائیویٹ اداروں میں آزادی سلب کیے جانے والوں کی صورتِ حال کو بھی اپنے دائرہ کار میں لیتا ہے۔ جبکہ کسی سرکاری محکمے نے فیصلہ کیا ہواور نتیجہ کے طور پر آزادی سلب ہو گئی ہو،  سرکاری محکمہ کی التماس پر، یا سرکاری محکمہ کی اجازت یا رضامندی سے ایسا کیا گیا ہو۔ 
شق 2۔ محتسبِ اعلیٰ کا دائرہ کارعدالتوں کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔
شق 3۔ محتسبِ اعلیٰ ایسے بورڈ کے خلاف شکایات پر کاروائی نہیں کرتا ہے، جو باہمی تسلی واطمینان بخش شکلوں میں پرائیویٹ اداروں کے مابین  اختلافات کے معاملات پر فیصلے کرتا ہو۔ چاہے مذکور بورڈ کسی دیگرحوالہ سے سرکاری انتظامیہ سے متعلقہ سمجھا جاتا ہو۔
شق 4۔ جہاں تک تجارتی تنظیمیں، ادارے اور ایسوسی ایشنز وغیرہ قانونی یا انتظامی طور پر جزوی یا کلی طرح سے سرکاری انتظامیہ پر لاگو ہونے والے اصول و قواعد کے تحت آتے ہوں، محتسبِ اعلیٰ یہ طے کر سکتا ہے کہ مذکورادارے اُسی حد تک محتسبِ اعلیٰ کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔
 
§  8۔۔ کمیونوں اور ریجنوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے محتسبِ اعلیٰ کوان خصوصی صورت حالات کا دھیان رکھنا ہوتا ہے جن کے اندر  وہ محکمے کام کر رہے ہیں۔


§  9۔۔ فولکِ کرک محتسبِ اعلیٰ کے دائرہ کار میں آتا ہے، ماسوائے ان سوالات کے جو بلا واسطہ چرچ کی تعلیم یا تبلیغ سے تعلق رکھتے ہوں۔

 

باب 3
پارلیمنٹ سے تعلق

§  10۔ محتسبِ اعلیٰ اپنے فرائض پارلیمنٹ سے آزادانہ طور پرسرانجام دیتا ہے۔ محتسبِ اعلیٰ کے کام کے بارے میں پارلیمنٹ عمومی قواعد وضوابط وضع کرتی ہے۔

§  11۔ محتسبِ اعلیٰ اپنی کارکردگی کی سالانہ رپوٹ پارلیمنٹ کو بھیجتا ہے۔ اس سالانہ رپوٹ کی عام اشاعت کی جاتی ہے۔
شق 2۔ ایسی صورت میں جبکہ محتسبِ اعلیٰ پیرا گراف jf. § 24 کی روشنی میں کسی کیس سے پارلیمنٹ، کسی وزیر، کسی کمیون کی انتظامیہ یا ریجن کی کاؤنسل  (regionsråd)کو مطلع کرے، یا محتسبِ اعلیٰ اپنی سالانہ رپورٹ میں کسی کیس کوشامل کرے تو اس صورت میں یہ معلومات بھی بہم پہنچانی ہوں گی کہ متعلقہ انتظامیہ یا فرد نے اپنے دفاع میں کیا بیان کیا ہے۔

§  12۔ کسی خصوصی واقعہ کی بنا پر اگر محتسبِ اعلیٰ نافذ شدہ قانون یا انتظامی امور کےقواعد وضوابط میں کمی کی طرف متوجہ ہو تو محتسبِ اعلیٰ پارلیمنٹ یا متعلقہ وزیر کواس بارے میں مطلع کرے گا۔  اگرکسی کمیون یا کسی ریجن  کے متعین کردہ قواعد و ضوابط میں کمی ہو تو محتسبِ اعلیٰ متعلقہ کمیون کی انتظامی کمیٹی یا ریجن کی کاؤنسل(regionsråd) کو مطلع کرے گا۔


باب 4
شکایات جمع کروانا

جن انتظامی محکموں یا اداروں ذکر §§7-9 میں کیا گیا ہے، ان کے خلاف ہرکوئی محتسبِ اعلیٰ کے ہاں شکایت کر سکتا ہے۔ جس کی آزادی سلب کر لی گئی ہو، اس کا حق ہے کہ وہ ایک بند تحریرکے ذریعہ محتسبِ اعلیٰ کو رجوع کر سکے۔
شق 2۔ شکایت کومنفی ہونا چاہیے۔
شق 3۔ معاملہ کے وقوع پذیر ہونے کے ایک سال  کےاندر شکایت جمع کرائی جانی چاہیے۔
شق 4۔ خصوصی صورتِ حالات کے پیشِ نظرمحتسبِ اعلیٰ شق 3۔ کی مدت کو بڑھا سکتا ہے۔ 

§  14۔ ایسے معاملات جن کی شکایت دوسرے انتظامی محکموں میں کی جا سکتی ہو، ان پر اُس انتظامی محکمہ کےفیصلہ کرنے سےپہلے شکایت نہیں کی جا سکتی ہے۔

§  15۔ ایسےافراد جن کی فوجداری قانونی کارروائی عمل میں لائےبغیرذاتی آزادی سلب کرلی گئی ہو ان کےمعاملات پر کارروائی کے ضمن میں  شکایات پریہ حوالہ دیا جاتا ہے،  کہ آئین کے § 7 شق 7 کی رو سے پارلیمنٹ ایک نگران مقرر کرتی ہے، جو اس قسم کی شکایات پر کارروائی کرنے کے لیے جوکسی ایسے کے خلاف ہوں جو محتسبِ اعلیٰ کےدائرہ کار میں آتے ہوں، نگران محتسبِ اعلیٰ کو شامل کار کرسکتا ہے۔ 


§  16۔ محتسبِ اعلیٰ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے آیا کوئی شکایت کافی حد تک چھان بین کےمواقع مہیا کرتی ہے۔
شق 2۔ اگر کوئی کیس محتسبِ اعلیٰ کے لیے تنقید کے اظہاریا سفارش کرنے کا موقع نہ فراہم کرتا ہو تو بمطابق § 20 شق1کیس کومتعلقہ محکمہ کے پاس وضاحت کے لیے بھیجنے سے پہلے ہی ختم کر دیا جاتا ہے۔


باب 5
ازخود پیش عملی پر چھان بین شروع کروانا اور معائنے

§  17۔ محتسبِ اعلیٰ اپنی تحریک و پیش عملی پر جانچ پڑتال وچھان بین کے لیے کوئی کیس لے سکتا ہے۔
شق 2۔ محتسبِ اعلیٰ کسی محکمہ کے کیسوں پر کارروائی کی عمومی جانچ پڑتال پرعمل درآمد کر سکتا ہے۔

§  18۔  محتسبِ اعلیٰ اپنے ماتحت میں آنے والے ہر ایک ادارے یا کام کی جگہ بشمول سرکاری کام کی ہرایک جگہ ، کی چھان بین و معائنہ کر سکتا ہے۔  اس نوعیت کے معائنہ وچھان بین کے ضمن میں جو کچھ §21 کے نتیجہ سامنے آتا ہے اس کے علاوہ محتسبِ اعلیٰ کسی ادارے یا محکمہ کی تنظیم کاری اور کارکردگی کے معاملات پرعمومی انسانی اور انسانی حقوق کے نقطہ ہائے نظرسے رائے دے سکتا ہے۔ یہ دیکھنا کہ استعمال کرنے والوں کے حساب سے ان اداروں یا محکموں کی سرگرمیاں بشمول معاملات کو حل کرنا، کیسے ہیں۔


باب 6
کیس کی معلومات

§  19۔ وہ محکمے جو محتسبِ اعلیٰ کے دائرہ کار میں آتے ہیں ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ محتسبِ اعلیٰ جو بھی طلب کرے،  وہ تمام متعلقہ معلومات سے محتسبِ اعلیٰ کو مطلع کریں نیزدستاویزات پیش کریں۔
شق 2۔ جو محکمے محتسبِ اعلیٰ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، محتسبِ اعلیٰ ان سے تحریری جواب دہی طلب کرسکتا ہے۔
شق 3۔ محتسبِ اعلیٰ افراد کو عدالت میں طلب کر کے ایسے معاملات پر بیان دینے کو کہہ سکتا ہے، جو محتسبِ اعلیٰ کی چھان بین میں اہم ہوں۔  بیانات انصاف کےعمل در آمد کے باب 68  میں دیئے گئے قواعد کے تحت دئیے جائیں گے۔
شق 4۔ محتسبِ اعلیٰ سرکاری کام کی ہرایک جگہ کا ملاحظہ کرسکتا ہے، اور تمام کمروں میں داخل ہو سکتا ہے۔
شق 5۔ پارلیمانی محتسب اپنی دانست میں اگر ضروری سمجھے توہر وقت کسی بھی مناسب شناخت نامہ کے ذریعہ سرکاری کام کی جگہ کا ملاحظہ کرسکتا ہے۔  وہ عدالتی حکم نامہ کے بغیرپرائیویٹ اداروں اورمتعلقہ جگہوں میں داخل ہو سکتا ہے، جہاں jf. § 7, stk. 1, 2. pkt کے تحت لوگوں کی آزادی سلب کر کے رکھا گیا ہے یا رکھا جا سکتا ہے۔ عمل درآمد کے لیے پولیس ضروری مدد فراہم کرتی ہے۔

§  20۔ متعلقہ محکمہ یا فرد کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع پانے سے قبل محتسبِ اعلیٰ کو تنقید کا اظہارکرنے یا سفارش جاری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
شق 2۔  محتسب، اعلیٰ یہ طے کرسکتا ہے کہ کوئی بیان، وضاحت نامہ، رپورٹ اوراس کا فی الوقتی ایڈیشن سماعتی تحریراورانتظامیہ کا سماعت کے متعلق جواب کے سلسلہ میں جس دن حتمی بیان، وضاحت یا رپورٹ متعلقہ انتظامی محکمہ کو ارسال کی جائے اس دن کے بعد دستاویز تک رسائی ہونی شرط ہے۔

باب 7
 را ئے اور ردعمل

§  21۔ محتسبِ اعلیٰ ان محکموں یا افراد کے بارے میں رائے دیتا ہے جو اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں، اور نافذالعمل قانون کے خلاف اقدام کرتے ہیں یا کسی دیگر طرح سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں قصور وارہوتے ہیں، غلطی یا لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں محتسبِ اعلیٰ کے ملاحظہ کی کارروائی کے سلسلہ میں § 18  کے قواعد نافذ ہوتے ہیں۔

§  22۔ محتسبِ اعلیٰ تنقید کااظہار کرسکتا ہے، سفارشات جاری کرسکتا ہے اورکسی کیس کے بارے میں اپنی رائے کا اظہارکرسکتا ہے۔

§  23۔ محتسبِ اعلیٰ اپنے دائرہ کار میں آنے والے معاملات میں سفارش کر سکتا ہےکہ کسی معاملہ کے ضمن میں مفت قانونی امداد کا حکم جاری کیا جائے۔ 

§  24۔ اگرکسی کیس کے بارے میں محتسبِ اعلیٰ کا معائنہ و چھان بین یہ ظاہر کرے کہ اُس سرکاری انتظامیہ کے بارے میں یہ باور کیا جاتا ہے کہ وہاں غلطی کی گئی ہےیا بڑے معانی رکھنے والی لاپرواہی برتی گئی ہے۔ ایسی صورت میں محتسبِ اعلیٰ اس کیس کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کومطلع کرے گا۔ مزید برآں محتسبِ اعلیٰ کیس کے بارے میں متعلقہ وزیر، کمیون کی انتظامی کمیٹی یا ریجن کی  کاؤنسل  (regionsråd) کو آگاہ کرے گا۔

§  25۔ محتسبِ اعلیٰ کے فیصلہ یا دیگر اظہار کے ضمن میں جو کیسز محتسبِ اعلیٰ کے خلاف انصاف کی سول کارروائی کی شکل میں دائر کیے جائیں، وہ محتسبِ اعلیٰ کی طرف سے دعویٰ کرنے پرخارج کیے جا سکتے ہیں۔  

 

باب 8
عملہ، تنظیم، اہلیت

§  26۔ محتسبِ اعلیٰ اپنے عملہ کےاراکین کی تقرری اور برخواستی خود کرتا ہے۔ اُن کی تعداد، تنخواہ، پینشن کا تعین پارلیمنٹ کے ضوابطِ کار کےقواعد کی رو سے ہوتا ہے۔ منصبی و دفتری اخراجات پارلیمنٹ کے بجٹ سے ادا کیے جاتے ہیں۔

§  27۔ محتسبِ اعلیٰ یہ طے کر سکتا ہے کہ عملہ کا ایک رکن عارضی طور پرمحتسبِ اعلیٰ کے فرائضِ منصبی سرانجام دے سکتا ہے۔

§  28۔ محتسبِ اعلیٰ کوفرائض منصبی ادا کرنے میں معاملات سے آگاہی ہوتی ہے اوراگراس کیس کی نوعیت اس بات کی متقاضی ہو کہ اسے خفیہ رکھا جائے تو اس کے پیشِ نظر محتسبِ اعلیٰ پر رازداری کا فرض عائد ہوتا ہے۔ محتسبِ اعلیٰ کے عملہ پربھی ویسا ہی فرض عائد ہوتا ہے۔

§  29۔ اگر کسی کیس میں ایسی صورتِ حالات سا منے آئے جومحتسب، اعلیٰ کی غیرجانبداری پرشک و شبہ کا موجب بنتی ہوں، تو محتسبِ اعلیٰ اس بارے میں قائمہ کمیٹی برائے قانون کومطلع کرے گا، جو یہ فیصلہ کر گی کہ محتسبِ اعلیٰ کے فرائض کون سر انجام دے گا۔
شق 2۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون کی رضامندی کے بنا محتسبِ اعلیٰ کو سرکاری یا پرائیویٹ کام کی جگہوں، کاروباری تنظیموں یا اداروں میں نوکری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

§  30۔ منصبی عہدہ بنام محتسبِ اعلیٰ یا کسی دیگرمنصبی عہدےکا نام جو گڈ مڈ ہونے کا موجب بنے استعمال کیے جانے کی اجازت نہیں ہے تا وقتیکہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ قوانین میں ایک کے تحت اس کا اختیاردیا گیا ہو۔


باب 9
نافزالعمل ہونا دیگر امور

§  31۔ یہ قا نون مورخہ 1جنوری 1997سے نافذالعمل ہے۔
شق 2۔ اسی کے ساتھ ہی آگے دئیے گئے قوانین منسوخ کئے جاتے ہیں: قانون برائے پارلیمانی محتسب بمطابق قانونی حکم نامہ نمبر 642 مورخہ 17 ستمبر1986، حکم نامہ نمبر 48 مورخہ 9 فروری 1962، ہدایات برائے پارلیمانی محتسب بشمول انصاف کے عمل درآمد کا پیرا گراف § 779  قانونی حکم نامہ نمبر 905  مورخہ 10نومبر1992جو آخری طور پہ § 4 نمبر 291 مورخہ 24 اپریل 1996 کی رو سے ترمیم کی گئی تھی۔۔.)


§  32۔ غیر ملکیوں کے بارے قانون بمطابق قانونی حکم نامہ نمبر 562 مورخہ 30 جون 1995، ترمیم شدہ بذریعہ §1 قانون نمبر290 مورخہ 24 اپریل 1996، ان میں درجِ ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:
1۔ § 33  شق 5 پوائینٹ 1 منسوخ ہے۔
۔ 2  باب نمبر8 میں § 58 کےبعد نئےپیراگراف کے طور پرداخل کیا جائے:
"58 a. §
 پارلیمانی محتسب کا منصب مہاجرین کے اپیل بورڈ (Flygtningenævnet) کے فیصلوں کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ بمطابق§17  قانون برائے پارلیمانی محتسب۔ "
شق2۔ مہاجرین کے اپیل بورڈ (Flygtningenævnet) کے فیصلوں کے خلاف جو شکایات محتسبِ اعلیٰ کو قانون کے نافذالعمل ہونے سے قبل ارسال کی جا چکی ہیں، ان پر اس وقت کے مروجہ قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

§  33۔ یہ قانون  Færøerne پر نافذ نہیں ہے مگرشاھی فرمان کے ذریعہ Færøerne پرنافذالعمل کیا سکتا ہے۔  جو معاملات Færøerne کی خصوصی صورتِ حال کے تعلق میں متقاضی ہیں ان کو ترک کرتے ہوئے۔

§  34۔ Færøerne  کے لیے شاھی فرمان کے ذریعہ بعد میں قانون میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، جوFærøerne کی خصوصی صورتِ حال کے تعلق میں  متقاضی ہیں۔
شق 2۔ گرین لینڈ کے لیے شاھی فرمان کے ذریعہ بعد میں قانون میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، جوگرین لینڈ کی خصوصی صورتِ حال کے تعلق میں متقاضی ہیں۔